بنگلورو:10؍ فروری (ایس اؤ نیوز) مسلم طالبات کےحجاب پہنے پر پابندی عائد کئے جانےپر سوال اٹھاتے ہوئے داخل کی گئی عرضی پر ہائی کورٹ چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی قیادت والی سہ رکنی بنچ نے شنوائی کرتے ہوئے اگلی سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی، مگر اس دوران انہوں نے حکم دیا کہ تعلیمی اداروں کو جلد کھولا جائےاور حتمی فیصلہ صادر ہونے تک کسی بھی دھرم کے لباس پہن کر حاضری نہ دی جائے۔
جمعرات دوپہر ڈھائی بجے عدالت کی کاروائی شروع ہوئی تو ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل اور عرضی داروں کے وکیلوں کے دعوؤوں کو سماعت کیا۔ کئی ایک حساس باتیں ہونےکی وجہ سے تفصیلی بحث لازمی ہونےکی وجہ سے معاملے کو پیر یعنی 14فروری تک کے لئے ملتوی کیاگیا۔
چیف جسٹس ریتوراج اوستھی نے کہا کہ ریاست کی سبھی اسکول اور کالجس کو جلد شروع کئے جائیں اور اگلے حکم نامے تک مذہبی ڈریس کو استعمال نہ کیاجائے یعنی عدالت کی ہدایت کے مطابق حتمی فیصلہ صادر ہونے تک طلبہ حجاب یا بھگوا شال پہن کر اسکول یا کالج میں حاضر نہیں ہوسکیں گے۔
جسٹس اوستھی نے کہا کہ کرناٹک میں امن و امان کو بحال رکھا جائے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیر سے ہر دن سماعت ہوگی اور جلد معاملے کو حل کیا جائے گا۔عرضی داروں کی جانب سے پہلے ایڈوکیٹ سنجے ہیگڈے نے اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ سال ستمبر سے طالبات تعصب کا شکار ہیں۔ انہیں کلاسس سے باہر بیٹھنے کہاجارہاہے، جبکہ ایڈوکیٹ دیودت کامتھ نے کیرالہ ہائی کورٹ اور مدراس ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مدلل باتیں سامنے رکھیں۔ انہو ں نے قران کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام میں حجاب (سر کو اسکارف سے ڈھانپنا )واجب ہے
ہائی کورٹ کی آج کی سماعت ختم ہونے کےبعد ریاستی حکومت نے اعلان کیا کہ پیر سے ہائی اسکولوں کو کھولا جائے گا، البتہ پی یو اور ڈگری کالجس حکومت کی طرف سے اگلی ہدایت جاری ہونے تک بند رہیں گے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسوراج بومائی نے کہا کہ پہلے اسٹیج میں ہم ہائی اسکولوں کو کھولیں گے، گیارہویں ، بارہویں اور دیگر ڈگری کالجس کو کھولنے کا فیصلہ حالات کی مناسبت سے کریں گے۔